ڈیٹنگ ایپ پر پہلے میسج میں کیا لکھو
میچ ہونے کی خوشی چند سیکنڈ میں الجھن بن جاتی ہے: اب کیا لکھوں؟ صرف ہائے لکھو تو بہت عام لگتا ہے، زیادہ لکھو تو زیادہ لگتا ہے۔ بہت سے لوگ اسی سوچ میں میچ چھوڑ دیتے ہیں اور بات شروع ہی نہیں ہوتی۔ یہ الجھن بہت عام ہے۔
اس گائیڈ میں دیکھو گے کہ پروفائل سے بات کا موضوع کیسے ڈھونڈنا ہے، کون سے سوال آسانی سے جواب پاتے ہیں، کن غلطیوں سے بچنا ہے، اور پہلے جواب کے بعد بات آگے کیسے بڑھانی ہے۔ ساتھ میں پاکستانی شہروں کی روزمرہ زندگی جیسی مثالیں ہیں۔
صرف ہائے کیوں کافی نہیں
ہائے یا ہیلو سے شروع کرنا برا نہیں، مگر اس سے بات چلانے کی ساری ذمہ داری دوسرے پر آ جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو مختلف میچز سے ایک جیسے ہائے ملتے ہیں اور فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے میسج آسانی سے گم ہو جاتے ہیں۔
کوئی خاص بات لکھو تو پتا چلتا ہے کہ تم نے انسان کو دیکھا ہے، صرف تصویر کو نہیں۔ ہائے کے ساتھ ایک چھوٹا سا سوال شامل کرتے ہی میسج بہت زیادہ زندہ ہو جاتا ہے۔ یاد رکھو، مقصد جواب دینا آسان بنانا ہے، خود کو ثابت کرنا نہیں۔
- صرف ہائے ساری ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتا ہے
- خاص بات لکھنا دلچسپی دکھاتا ہے
- ایک چھوٹا سوال بات آسان کرتا ہے
- مقصد جواب کو آسان بنانا ہے
یہ کیوں کام کرتا ہے: ہائے کے ساتھ پروفائل کی ایک خاص چیز اور ایک آسان سوال، اس لیے جواب دینے کا دل کرتا ہے۔
میچ کی پروفائل دیکھ کر سمجھ نہیں آ رہا کیا لکھو؟ Auraliyx کچھ قدرتی پہلے میسج کے آئیڈیاز دے سکتا ہے، جنہیں تم اپنے انداز میں بدل لو۔
اپنی چیٹ پر آزماؤمفت · کارڈ کی ضرورت نہیںپروفائل سے بات کا موضوع ڈھونڈو
پروفائل کی تصویریں، بائیو اور پرامپٹس دراصل بات شروع کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ کسی سفر کی تصویر، پسندیدہ کھانا، پالتو بلی، کرکٹ کی شرٹ یا کسی کتاب کا نام، ان میں سے کسی پر بھی سوال پوچھا جا سکتا ہے۔ ایک چیز چنو اور اسی پر توجہ دو۔
اگر بائیو خالی ہو تب بھی تصویروں میں عام طور پر کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ پیچھے کوئی جگہ، ہاتھ میں کوئی ساز، یا دوستوں کے ساتھ کوئی تقریب۔ وہیں سے ایک ہلکا سا اندازہ لگا کر پوچھو، جیسے کیا یہ مری ہے؟ اندازہ غلط بھی ہو تو بات شروع ہو جاتی ہے۔
- سفر کی تصویریں
- پسندیدہ کھانا یا کھانا پکانا
- پالتو جانور یا شوق
- کرکٹ، کتابیں یا موسیقی
یہ کیوں کام کرتا ہے: پروفائل کے ایک خاص شوق سے کھلا سوال، جس پر وہ اپنی مرضی سے بات کر سکتا ہے۔
کھلا سوال پوچھو، مگر آسان رکھو
جس سوال کا جواب صرف ہاں یا نہیں ہو، وہ بات جلدی روک دیتا ہے۔ کیا تمہیں گھومنا پسند ہے کے بجائے پوچھو کون سا سفر سب سے اچھا لگا اور کیوں۔ کھلا سوال قصہ سنانے کا موقع دیتا ہے اور ہر قصے سے اگلا سوال نکلتا ہے۔
دوسری طرف بہت گہرے یا فلسفیانہ سوال پہلے میسج میں بھاری لگتے ہیں۔ زندگی کا مقصد کیا ہے جیسے سوال بعد کے لیے رکھو۔ شروع میں ایسا کچھ پوچھو جس کا جواب دینے میں زیادہ سوچنا نہ پڑے مگر تھوڑی بات کرنے کی گنجائش ہو۔
- ہاں یا نہیں والے سوال سے بچو
- قصہ سنانے کی گنجائش رکھو
- شروع میں بہت گہرے سوال مت پوچھو
- ایک وقت میں ایک سوال
یہ کیوں کام کرتا ہے: آسان مگر کھلا سوال، مزے کا لہجہ، اور جواب دینے میں زیادہ سوچنا نہیں پڑتا۔
وہ غلطیاں جن سے بچو
پہلے ہی میسج میں شکل کے بارے میں زیادہ تبصرہ بہت سے لوگوں کو بے آرام کرتا ہے۔ تم بہت خوبصورت ہو سے شروع کرو تو تعریف ہونے کے باوجود بات کا کوئی موضوع نہیں بنتا۔ اس کے بجائے پسند، شوق یا تصویروں کے قصے کے بارے میں کچھ کہو، جو عزت والا بھی ہے اور دلچسپ بھی۔
سب کو ایک ہی کاپی کیا ہوا میسج بھیجنے سے بھی بچو۔ بہت سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ کون سا میسج صرف ان کے لیے لکھا گیا ہے اور کون سا سب کے لیے۔ بہت لمبا پیراگراف بھی شروع میں بھاری لگتا ہے، دو تین لائنیں کافی ہیں۔
- شکل پر ضرورت سے زیادہ تبصرہ
- سب کو ایک ہی کاپی میسج
- شروع میں ہی لمبا پیراگراف
- ذاتی یا بے آرام کرنے والے سوال
یہ کیوں کام کرتا ہے: پروفائل کی بات کو مزے کی بحث میں بدلا گیا ہے، جو عزت والا بھی ہے اور جواب دینے میں مزہ بھی آتا ہے۔
جواب آئے تو بات آگے بڑھاؤ
جواب آنے کے بعد صرف سوال پر سوال پوچھتے رہو تو یہ انٹرویو جیسا لگتا ہے۔ اس کے جواب کے ساتھ اپنا ایک چھوٹا قصہ یا رائے بھی بتاؤ، پھر چاہو تو ایک اور سوال پوچھو۔ اس طرح بات دونوں طرف سے چلتی ہے۔
اس کے جواب کا کوئی حصہ پکڑ کر آگے بڑھو تو پتا چلتا ہے کہ تم نے دھیان سے پڑھا ہے۔ اگر وہ کہے کہ اسے اندرون لاہور کا کھانا پسند ہے، تو پوچھ سکتے ہو اس کی پسندیدہ جگہ کون سی ہے اور اپنی بھی بتاؤ۔ چھوٹی چھوٹی مماثلتوں سے ہی بات جمتی ہے۔
- سوال کے ساتھ اپنا قصہ بھی بتاؤ
- اس کے جواب کا کوئی حصہ پکڑو
- انٹرویو جیسی سوالوں کی لسٹ سے بچو
- مماثلتوں پر دھیان دو
یہ کیوں کام کرتا ہے: اپنی رائے شامل کر کے اس کے جواب سے نیا سوال نکالا گیا ہے، تاکہ بات دونوں طرف چلے۔
جواب نہ آئے تو دل چھوٹا مت کرو
پہلے میسج کا جواب نہ آنا ایپس پر بہت عام بات ہے۔ بہت سے لوگ ایپ کم کھولتے ہیں، کچھ بہت سے میچز میں گم ہو جاتے ہیں، کچھ اس وقت بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوتے۔ یہ تمہارے میسج کے معیار کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں۔
ایک میسج کے بعد انتظار کرو، اور چاہو تو ایک دو دن بعد ایک بار کسی اور موضوع پر چھوٹا سا لکھ سکتے ہو۔ پھر بھی جواب نہ آئے تو اگلے میچ پر دھیان دو۔ ہر نئی بات چیت ایک نئی شروعات ہے، پچھلی کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں۔
- جواب نہ آنا ایپس پر عام ہے
- ایک بار سے زیادہ یاد دہانی مت کرو
- اگلے میچ پر دھیان دو
- ہر بات چیت نئی شروعات ہے
یہ کیوں کام کرتا ہے: بغیر کسی گلے کے ایک نئی اور ہلکی بات، جو جواب دینے کا ایک اور آسان موقع دیتی ہے۔
عام سوالات
ڈیٹنگ ایپ پر پہلا میسج کتنا لمبا ہونا چاہیے؟
عام طور پر ایک سے تین لائنیں کافی ہیں۔ ایک چھوٹا تبصرہ اور ایک سوال ہو تو پڑھنا بھی آسان ہے اور جواب دینا بھی۔
کیا پہلے میسج میں تعریف کرنی چاہیے؟
کر سکتے ہو، مگر شکل کے بجائے اس کی پسند، شوق یا تصویروں کے قصے کی تعریف زیادہ اچھی لگتی ہے۔ اس سے بات کا ایک موضوع بھی بنتا ہے۔
کیا لڑکیوں کو پہلے میسج کرنا چاہیے؟
کوئی بھی پہلے میسج کر سکتا ہے، اور کچھ ایپس جیسے Bumble میں خواتین ہی پہلا میسج کرتی ہیں۔ دلچسپی ہو تو خود شروع کرنا بالکل فطری ہے۔
پہلے میسج کا جواب نہ آئے تو کیا کروں؟
ایک دو دن انتظار کرو اور چاہو تو ایک بار نئے موضوع پر چھوٹا میسج بھیج دو۔ پھر بھی جواب نہ آئے تو اگلے میچ پر دھیان دو، یہ تمہاری قدر کا فیصلہ نہیں۔
مفید لگا؟ جسے ضرورت ہو اسے بھیجیں
اسی سوال والا دوست آپ کا شکریہ ادا کرے گا۔
پہلا میسج آسان بناؤ
پروفائل کی باتیں یا اپنی چیٹ دو، Auraliyx تمہارے انداز میں کچھ پہلے میسج تیار کر دے گا۔ کون سا بھیجنا ہے، یہ فیصلہ تمہارا ہے۔
اپنی چیٹ پر آزماؤمفت · کارڈ کی ضرورت نہیں